بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، عالم اسلامی کے 100 سے زائد علماء اور ممتاز شخصیات نے ـ حالیہ فتنے کے مقابلے میں ـ اپنے ایک مشترکہ بیان میں اسلامی جمہوریہ ایران اور انقلاب اسلامی کے رہبر معظم امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے، ٹرمپ کو محارب قرار دیا۔
بیان کا متن:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ ربّ العالمین، و الصلاۃ و السلام علی سیدنا محمد و آلہ الطاہرین، و بعد؛
ہم امت مسلمہ کے علماء، فقہاء، دینی مفکرین اور ذمہ دار شخصیات، قرآن کریم کی قطعی نصوص، سنت نبویہ، اسلامی فقہ کے مسلّمہ اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کے تسلیم شدہ قوانین کی رو سے، امریکہ اور صہیونی ریاست کی طرف سے اسلامی جمہوریہ ایران اور انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کو دی جانے والی اعلانیہ دھمکیوں، "72 گھنٹوں کی بے شرمانہ مہلت" اور سیاسی-نفسیاتی ہراس پھیلانے کے مقابلے میں ـ ذیل میں ـ اپنے فقہی اور اصولی موقف کا اعلان کرتے ہیں:
1۔ اقوام کے خلاف کسی قسم کے الٹی میٹم اور دھمکی کا شرعی اور قانونی بطلان
"نفی سبیل" کا قاعدہ (وَلَن یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا) اور "ظلم میں اعانت کی حرمت" کا قاعدہ، مسلم قوموں کے خلاف کسی بھی قسم کی دھمکی یا الٹی میٹم کو باطل اور غیر قانونی سمجھتا ہے۔ "تسلیم" (ہتھیار ڈالنے) کے لئے الٹی میٹم اور مہلت دینے کا دعویٰ کا کوئی بھی شرعی، عقلی اور قانونی جواز نہیں ہے اور یہ تعدّی اور تجاوز (جارحیت) کا نمایاں مصداق ہے۔
2۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کے محارب اور مفسد فی الارض ہونے پر فقہی تصریح
آیت شریفہ:
"إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِینَ یُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَیَسْعَوْنَ فِی الْأَرْضِ فَسَادًا ۔۔۔" (المائدہ: 33)
اور "محاربت" اور "افساد فی الارض" (زمین میں فساد پھیلانے) ـ منجملہ وسیع پیمانے پر خوف و ہراس پھیلانے، اقوام عالم کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے، سرزمینوں پر قبضہ کرنے اور جنگ اور بدامنی کو رائج کرنے ـ کے فقہی عناوین کے تحت، ڈونلڈ ٹرمپ اور بنیامین نیتن یاہو ان افعال کی سرپرستی اور ان میں براہ راست کردار اور ان کے اسباب فراہم کرنے کیبنا پر، "محارب" اور "مفسد فی الارض" کا واضح مصداق سمجھے جاتے ہیں۔ یہ حکم ان کے اعمال اور پالیسیوں کی نوعیت کی فقہی وضاحت کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور اس کا مطلب امت مسلمہ کی نظر میں ان کے شرعی، اخلاقی اور قانونی جواز (قانونی حیثیت) کا خاتمہ ہے۔ ظاہر ہے کہ اس عنوان کے قانونی اور عدالتی اثرات پر مجاز اور ذمہ دار عدالتوں کے دائرہ کار میں غور و خوض کیا جائے گا۔
3۔ آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای (حفظہ اللہ) اسلامی عزت و عظمت کے محاذ کے قائد
حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ای (حفظہ اللہ)، عزت اسلامی کے محاذ کے قائد اور ایران کے اسلامی جمہوری نظام کے دائرے میں، مسلمانوں کے قانونی ولی امر ہیں جو علم و حکمت، شجاعت اور بصیرت کے ساتھ امت اسلامیہ کے وجود اور اقوام عالم کے وقار و کرامت کا دفاع کر رہے ہیں۔ اسلام کی سیاسی فقہ کی رو سے، انہیں کسی قسم کی دھمکی، قانونی ولایت کی حدود پر حملہ اور عزت اسلامی کے محاذ کے ساتھ دشمنی کا اعلان سمجھی جاتی ہے۔
4۔ دھونس دھمکیوں کے زیر اثر "ہتھیار ڈالنے" کی حتمی شرعی حرمت
مسلّمہ فقہی قواعد ـ منجملہ "ظلم پر راضی ہونے کی حرمت"، "وجوب دفع الأفسد با الفاسد" (بڑے فساد کو چھوٹے فساد سے دفع کرنے کے وجوب) اور "جارحیت کے مقابلے میں دفاع کے وجوب" ـ کے تحت، دشمن کے سامنے تسلیم ہونا (ہتھیار ڈالنا) یا حربی کفار کی دھونس دھمکی اور دہشت پھیلانے کے زیر اثر سیاسی سازباز کرنا، شرعی لحاظ سے حرام اور امت مسلمہ کے حقوق کا ضیاع ہے۔
5۔ دھونس دھمکی کے اثرات کی شرعی اور قانونی ذمہ داری
قاعدہ "من أتلف مال الغیر فهو له ضامن" (جو دوسرے کا مال ضائع کرے وہ اس [مال] کا ضامن ہے) اور "تسبیب [سبب بننے اور اسباب فراہم کرنے] کی ذمہ داری" کے اصول کا تقاضا ہے کہ دھونس دھمکی اور دہشت پھیلانے کے منصوبہ ساز بدامنی، کشیدگی اور ممکنہ نقصانات کے براہ راست ذمہ دار ہیں۔ ہم خبردار کرتے ہیں کہ یہ راستہ جاری رکھنے کے اثرات ایسے نتائج کا باعث بنتے ہیں جو کہ ظاہری تخمینوں اور حساب کتاب کے دائرے سے خارج ہونگے اور ان کی ذمہ داری دھمکی دینے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
6۔ امت کے اتحاد و یکجہتی اور ذمہ دارانہ قیام کی فقہی دعوت
پوری امت کی سطح پر "اتحاد و یکجہتی" اور "امر بالمعروف اور نہی عن المنکر" کے وجوب کی رو سے، علماء، دانشوروں اور سماجی و سیاسی شخصیات اور مسلم اقوام سے اپیل کرتے ہیں کہ واضح، ذمہ دارانہ اور واحد موقف اپنا پر ملت ایران اور اسلامی عزت کے محاذ کے ساتھ کھڑے ہو جائیں اور خوف و دہشت اور تحریف کو حقائق کی جگہ نہ لینے دیں۔
7۔ اللہ کے وعدے محاذ حق کے غلبے سے اطمینان
اللہ کے قطعی اور حتمی وعدے "إِن تَنصُرُوا اللَّهَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ" (اے ایمان لانے والو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے وہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمائے رکھے گا)، مستقبل جائز مقاومت و استقامت، صبر اور پامردی کا ہے اور محاذ باطل ـ شور و غل کے باوجود ـ زوال پذیر ہوگا۔
وَسَیَعْلَمُ الَّذِینَ ظَلَمُوا أَیَّ مُنقَلَبٍ یَنقَلِبُونَ
وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ